بھارتی انتخابات،نریندر مودی کی مسلم دشمنی بے جی پی کو لے ڈوبی


Syed Rizwan Shamsi Posted on December 11, 2018

نئی دہلی:پانچ بھارتی ریاستوں انتخابات، تین میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو کانگریس سے شکست کا سامنا، دو ریاستوں میں مقامی جماعتوں نے کامیابی حاصل کر لی۔بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں کانگریس نے واضح برتری حاصل کر لی ہے جبکہ راجستھان میں بھی کانگریس ہی آگے ہے۔ مدھیہ پردیش میں دونوں جماعتوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ چل رہا ہے۔ ان تینوں ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت تھی۔ چھتیس گڑھ میں کانگریس 59 نشستوں پر آگے ہے جبکہ بے جی پی کے امیدوار 23 نشستوں پر سبقت لیے ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق راجستھان میں کانگریس کے امیدوار 96 نشستیں جیت رہے ہیں جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار 75 حلقوں میں ہی بازی مارتے دکھائی دے رہے ہیں تاہم یہاں واضح اکثریت نہ ملنے کی صورت میں چھوٹی جماعتوں اور آزاد امیدوار حکومت سازی میں اہم کردار ادا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔مدھیہ پردیش میں صورتحال تیزی سے بدلی ہے۔ ابتدا میں یہاں کانگریس آگے تھی، پھر بی جے پی نے سبقت لی اور اب پھر کانگریس آگے نکل گئی ہے۔ اس وقت کانگریس یہاں 113 نشستیں جیت رہی ہے جبکہ بی جے پی 106 نشستوں پر آگے ہے۔ بہوجن سماج پارٹی چار نشستوں پر آگے ہے اور اس نے کانگریس کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ خیال رہے کہ اس ریاستی اسمبلی میں سادہ اکثریت کے لیے 115 نشستیں درکار ہیں۔ تیلنگانہ میں ٹی آر ایس 87 نشستوں پر آگے ہے جو دو تہائی کی برتری سے بھی زیادہ ہے۔ 40 نشستوں والی ریاست میزورم میں ایم این ایف جیت کی طرف بڑھ رہی ہے اور وہ 16 نشستیں جیت چکی ہے اور سات پر آگے ہے۔ مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی 15 برس سے اقتدار میں تھی جبکہ راجستھان میں وہ پانچ برس قبل اقتدار میں آئی تھی۔ ان ریاستوں میں وزیراعظم نریندر مودی اور کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے انتخابی مہم میں سرگرمی سے حصہ لیا تھا۔ بی جے پی کے اقتدار والی دو ریاستوں میں کانگریس کی ممکنہ جیت کو ملک کی قومی سیاست میں اس کی موثر واپسی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔