پاکستان دشمنی بھارت میں قومی یکجہتی اجاگر کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، باراک اوباما


Mian Fayyaz Ahmed Posted on November 20, 2020

واشنگٹن:سابق امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ پاکستان دشمنی بھارت میں قومی یکجہتی اجاگر کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ بھارتی فخر کرتے ہیں کہ پاکستانی جوہری طاقت کے مقابلے کیلئے ان کے پاس ایٹمی قوت ہے، ان بھارتیوں کو ادراک نہیں کہ ذرا سی غلطی خطے کو تباہ کر سکتی ہے۔تفصیل کے مطابق سابق امریکی صدر باراک اوباما نے اپنی نئی کتاب میں بھارتی جمہوریت کی قلعی کھول دی ہے۔ انہوں نے مسلم مخالف انتہا پسندی اور پاکستان دشمنی کے بارے میں چند اہم حقائق سے پردہ اٹھا دیا ہے۔سابق امریکی صدر باراک اوباما نے اپنی کتاب میں لکھا کہ بڑھتے ہوئے مسلم مخالف جذبات نے ہندو قوم پرست حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اثر کو مضبوط کیا۔ جنونیت اور انتہا پسندی بھارتی معاشرے میں سرکاری اور نجی سطح پر بہت گہرائی تک سرائیت کر چکی ہے۔

اوباما نے لکھا کہ پاکستان دشمنی بھارت میں قومی یکجہتی اجاگر کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ بھارتی اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے پاکستانی جوہری طاقت کا مقابلہ کرنے کیلئے ایٹمی ہتھیار تیار کیے۔ ان کو ادراک نہیں کی معمولی غلطی پورے خطے کو تباہ کر سکتی ہے۔باراک اوباما نے اپنی کتاب میں لکھا کہ آج مجموعی طور پر بھارتی معاشرہ نسل پرستی اور قوم پرستی پر مرکوز ہے۔ معاشی ترقی کے باوجود بھارت ایک منتشر اور بے حال ملک ہے۔ بھارت بدعنوان سیاسی عہدیداروں، تنگ نظر سرکاری افسروں اور سیاسی شعبدہ بازوں کی گرفت میں ہے۔ انہوں نے کتاب میں لکھا کہ خود سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے اعتراف کیا تھا کہ ہمارے ملک میں مذہبی اور نسلی یکجہتی کا غلط استعمال سیاستدانوں کیلئے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔

بارک اوباما کی یہ نئی کتاب 17 نومبر کو شائع ہوئی۔ اس کتاب میں بھارت میں مسلم مخالف انتہا پسندی پر پردہ اٹھایا گیا ہے۔ کتاب میں انہوں نے نومبر 2010ء میں دورہ بھارت کا تذکرہ کیا اور سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سِنگھ سے ملاقات کا حوالہ دیا۔سابق امریکی صدر نے تسلیم کیا کہ انتہا پسندی، جنونیت، بھوک، بدعنوانی، عدم رواداری بھارت میں بہت مضبوط ہو چکی ہے۔ اس صورتحال میں کوئی بھی جمہوری نظام اس کو مستقل طور پر جکڑ نہیں سکتا۔ کسی طاقتور سیاسی رہنما کے ہوا دینے پر لوگ دوبارہ انتہا پسندی اور سرکشی کی نظر ہو جاتے ہیں۔ بھارت میں سکھ اقلیت کو بھی اکثر نشانہ بنایا جاتا ہے۔